جمعرات، 22 ستمبر، 2011

علم رمل کی تاریخ



علمِ رمل عربی میں ریت کو کہتے ہیں ، یہ علم ریت پرنازل ہوا تھا اس لیے اس علم کو علم رمل کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ علم النوکات اورعلم الخط بھی کہا جاتا ہے، رمل ایک الحامی علم ہےجسے خدا نے انبیا علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا۔  اس علم کے ذریعے نہ صرف زمانہ ، حال، ماضی، مستقبل کے حالات معلوم پڑسکتے ہیں بلکہ اس علم میں بہت گہرے اسراراور  پوشیدہ راض ہیں جو ہر کسی کو معلوم نہیں پڑ سکتے صرف  اُسے معلوم پڑ سکتے ہیں جسے خدا چاہے، اس ایک علم کے اندر پوری کائنات کے راز سماٰٗئے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسا گہرا سمندر ہے جس کی تہے تک کوئی نہیں پہنچ سکتا ، میں نے اس علم کے پوشیدہ اسرار کو کافی کھوجا ہے اور میں کچھ راز اآپ سے شئیر کر رہا ہوں ، یہاں جو قصے اور واقعات انبیا علیہ السلام کے جو علمِ رمل کے ساتھ جوڑے ہیں لکھ رہا ہوں یہ سب میں نے مختلف مقدس کتابوں سے لئے ہیں ، یہ سب آپ غور سے پڑھنا کیونکہ ان قصوں اور روایت میں اس علم کے گہرے راز پوشیدہ ہیں،آپ کو پڑھنے کے بعد حیرت ہوگی کہ کس طرح اللہ پاک  نے مختلف انبیا علیہ السلام کو اُن کے دور میں اس علم کو نازل فرما کر  اُن کی رہنمائی کی تھی۔                                                                
                                                  :حضرت ٓادمؑ کا علم رمل                                                                                                             جب حضرت آدم علیہ السلام اور بی بی حوا  علیہ السلام  کو جنت سے نکالا گیا تو حضرت آدم علیہ السلام کو  دنیا کے ایک کونے پر رکھا اور بی بی حوا کو دنیا کے دوسرے کونے پر رکھا گیا اور دونوں میں جدائی ہوئی ، اس دوران حضرت آدم علیہ السلام بی بی حوا علیہ السلام کی جدائی میں غمگین رہنے لگے ، اُن کو حضرت بی بی حوا علیہ السلام کی بہت فکر ہونے لگی کہ نا جانے وہ کس حال میں ہونگی اور اسی فکر اور سوچ کے عالم میں آپ دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے تھےسامنے ریت کی زمین تھی اور آپ علیہ السلام کی انگلیاں ریت میں گڑی ہوئی تھیں اس  طرح     

اُس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ پاک کے حکم سے آپ علیہ السلام کے پاس آئےاور آپ علیہ السلام کو کہا کہ ریت پر سے اپنا ہاتھ اٹھائیں ، جب آپ نےاپنا ہاتھ اٹھایا تو ریت پر گڑی انگلیوں سے چارنکتوں کی سی صورت ملی اس طرح



 اس تصویر کواہلِ رمل"ابوالاشکال"کہتے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام نےاُس کے برابراپنی چار انگلیاں گڑیں اس سے چار او ر نقطے بن گئے اس طرح

جب ان آٹھ نقتوں کو آپس میں حضرت آدم علیہ السلام نے ملایا تو چار لائنز بن گئیں اور رمل کی دو تصویربنیں جیسے "اُم الاشکال کہتے ہیں۔
کچھ علماء کے مطابق  حضرت آدم علیہ السلام کا ہاتھ ریت پر رکھا تھا مگر انگلیاں ریت میں گڑہی ہوئیں نہیں تھیں بلکہ سیدھی رکھی تھی اس طرح

                                   
حضرت جبرائیل علیہ السلام کے کہنے پر جب حضرت آدم علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو چار انگلیوں سے ریت پر چار لائن والی شکل ام الاشکال بنی ہوئی ملی جس کے برابرمیں حضرت جبرائیل علیہ السلام نےاپنے ہاتھ کی چار انگلیاں گاڑیں اورچار نقطوں والی شکل بنائیں جسے "ابوالاشکال" کہتے ہیں، دو اشکال ریت پر اس طرح بنی ہوئیں تھیں۔


حضرت جبرائیل علیہ السلام جس طرح خاموشی میں ظاہر ہوئے تھےاُسی طرح خاموشی میں ہی ریت پرنقطے بنا کر گم ہوگئے، اللہ پاک رحیم و کریم ہے اُن کو حضرت آدم علیہ السلام کا غمگین رہنا پسند نہیں آیا اس لیے اللہ پاک نے علم رمل کو بذریعہ جبرئیل علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کو دیا۔
یہ ایک طرح سے چھپی پہیلی یا قدرت کےراز سمایا ہوا میتھ کی ایکوئیشن کی طرح ایک ایکوئیشن تھا جسے آدم علیہ السلام کو اپنی ذہانت سے حل کرنا تھا اور اسی کےذریعے بی بی حواعلیہ السلام کوڈھونڈنا تھا، یہ ایک مشن تھا جس میں حضرت آدم علیہ السلام نےاپنے آپ کو مصروف کرلیا اس ایکویشن کوسمجھنے میں حضرت آدم علیہ السلام  کو کافی عرصہ لگ گیااور اسی عرصے میں آپ علیہ السلام قدرت کے کافی رازسمجھنے لگےاور آپ علیہ السلام نے اپنے رب کریم کی خدائی  کا مشاہدہ کیا اور جب آپ علیہ السلام پوری کائنات کے سسٹم کوسمجھا، غور کیاتو سجدے میں گر گئےاور رو کر گڑگڑا کراپنے رب سےمعافی مانگی اور اللہ پاک نے اُن کو معاف کردیا، یہ علم تو ایک بہانہ تھا اس ایک علم سے حضرت آدم علیہ السلام نے کئی علوم سیکھ لئے، کائنات کے نظام کو سمجھا، خدا کے 99 صفات کومشاہدہ کیا اور اپنے رب کوپہچانا، اسی علم کے ذریعے آپ نے بی بی حواعلیہ السلام کو ڈھونڈ لیااور دل میں خوفِ خدا پیدا ہوا اور رو کر گڑگڑا کر اپنے رب سے معافی مانگی، اللہ پاک یہی چاہتے تھے کہ وہ میری کائنات میں غورو فکرکر کے میرے نظام کوسمجھے مجھےسمجھے کہ میں کون ہوں اس لیے یہ مقدس علم رمل وہی کیا گیا حضرت آدم علیہ السلام پر۔
حضرت آدم علیہ السلام نے علم رمل کی ریت پربنی دو تصویروں میں کس طرح غور کیا اور اس علم کو سمجھااس کی مختصر تشریح یہاں آپ سب کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔
حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جو چارنقطے ریت پر ڈالے تھے ان چار نقطوں کو حضرت آدم علیہ السلام نے چارالیمینٹس یعنی عناصر سے منصوب کیا وہ چار عناصر ہیں۔ آگ، ہوا، پانی، مٹی۔




حضرت آدم علیہ السلام نے دنیا کی ہر شے میں غور کیا کہ ہر چیزچار الیمنٹس سے بنتی ہے ہر شے میں چار الیمنٹس کے اثرات پائے جاتے ہیں، آپ  علیہ السلام نے پہلے سورج کو دیکھا اور اُس کی تپش اور گرمی کو محسوس کیا اور الیمنٹس فائر کو پہلے درجے پررکھا  اُ س کے بعد ہوا میں غور کیا کہ سورج کے بعد ہوا طاقتور ہے جو آسمان میں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجاتی ہے اور سمندرکی لہروں کو کس طرح ساحل پر لاتی ہےاور کس طرح ریت پرہوا سے شدید طوفان آتے ہیں اور آپ علیہ السلام نے ہوا کو دوسرے درجے پر رکھا، اُ س کے بعد آپ علیہ السلام نے بارش جو بادل برساتے ہیں، دریا اور سمندر میں غور کیا اس طرح الیمنٹ پانی کوآپ علیہ السلام نے تیسرے درجے پر رکھا، اُس کے بعد آپ علیہ السلام نے مٹی اور ریت پرغور کیا اور زمین کے الیمنٹ کو چوتھے درجے پر رکھا۔
چار نقطوں والی شکل میں  چاروں ایلیمنٹس کھلے ہوتے ہیں اور چار لائن والی شکل  میں چاروں الیمنٹس بند ہوتے ہیں اسی سسٹم کے ایک ایک عنصر پرآپ علیہ السلام نے غور کیا اور رمل کی چاراور اشکال بنا ڈالی ریت پر اس طرح



اس طرح حضرت آدم علیہ السلام کو عناصر کی دوستی اور دشمنی کے متعلق بھی معلوم پڑا کے کونسےعناصر آپس میں دوست ہیں کونسے دشمن جیسےآگ پر پانی ڈالنے سےآگ بجھ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اسی سسٹم سے  حضرت آدم علیہ السلام نے رمل کی مزید اشکال بنا ڈالی اس طرح کُل ملا کر16 رمل کی اشکال وجود میں آگئیں
 


 چار الیمنٹس یعنی عناصر کے علم سےحضرت آدم علیہ السلام نےاور بھی کئی علوم سیکھےجن میں اکیمیاء، حکمت ، نجوم وغیرہ انہی علوم سے  آپ علیہ السلام نے ہر رمل کی اشکال کے منصوبات رکھے اس طرح ہر رمل کی شکل  کے کئی منصوبات ہوتے ہیں اور کونسی شکل کائنات میں کس کس چیز کے ساتھ جڑی ہوئی ہےاس طرح حضرت آدم علیہ السلام نےاس علم پر عبور حاصل کرلیا اور حضرت بی بی حواعلیہ السلام کے حالات اس علم سے معلوم کیے اور ایک دن اُن سے جا ملے، اور اپنے علم سے خدا کی رضا اُن کو حاصل ہوئی اور جنت کے دروازے اُن کے لئے دوبارہ کھل گئے، آپ علیہ السلام نے علم کے راز کو اپنے تک ہی رکھا اور اپنے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کو بتایا تاکہ اس علم کی مدد سے اُن کو بھی رہنمائی ملے اور اُنکی اولاد بھی جنت میں جاسکے۔
اگر غور کیا جائے تو رمل ایک ابتدائی زبان ہے جو عربی کی اینسسٹر ہے، رمل کی اشکال میں 2 چیزیں ہوتی ہیں ۔ایک نقطہ اور دوسری لائن انہیں دو چیزوں سے عربی کے حروف ابجد بنے ہیں، کچھ علماوں کے مطابق حضرت جبرائیل علیہ السلام  اللہ کے حکم سے جو چار نقطے ریت پر ڈالے تھے یہ چار نقطے "بسم اللہ الرحمن الرحیم کے چار نقطے تھے،  انہیں 4 مقدس نقطوں  سے علم کی ابتداء ہوئی زمین پر وقت کے ساتھ یہی 4 مقدس نقطے بدل کر حروف بنے اور آیت بنی جس سے آسمانی کتابیں نازل ہوئیںَ


 اب میں کچھ اور پوشیدہ اسرار آپ سے شئیر کرونگا، وہ ہاتھ جس نے ریت پر 4 نقطے ڈالے تھے حضرت آدم علیہ السلام  کے ہاتھ کے برابر میں اُس کے متعلق اسلامک روایت یہ کہتی ہیں کہ وہ ہاتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ہاتھ تھا اور اسرائیلی یعنی جیوش علماء یہ کہتے ہیں کہ وہ ہاتھ خدا کا ہاتھ تھا اور کچھ یہ کہتے ہیں کہ اینجل راضیئل کا ہاتھ تھا وہ اینجل جو پوشیدہ علوم جانتا تھا جس نے یہ پوشیدہ علم حضرت آدم علیہ کو سکھایا تھا، خیر اسلامک روایت زیادہ معتبر مانی جاتی ہیں اور وہ ہاتھ جس نے 4 نقطے ڈالے تھے

 

 یہودی اور مسلمان دونوں کے نزدیک یہ ہاتھ مقدس مانا جاتا ہے، یہودی اس ہاتھ کو "ہمثہ" کہتے ہیں اور اُن کے نزدیک یہ ایک مقدس الامت ہے جسے وہ لوگ اپنے گھروں میں رکھتے ہیں اور نظر بد، جادو کے اثرات اور ہر طرح کی حفاظت کے لیے اور کچھ لوگ تعویذ کی طرح اسے گلے میں بھی پہنتے  ہیں، کچھ تصوریں جیوش ہمثہ ہاتھ کی یہ ہیں

Hamsa hand from my personal collection



 

اس طرح ہم مسلمانو  ں میں خاص کر شیعہ فرقے کے لوگ اس سمبل کو بہت مقدس مانتے ہیں کچھ پنجتن پاک کا ہاتھ کہتے ہیں تو کچھ حضرت علی علیہ السلام  کا ہاتھ کہتے ہیں اور کچھ عرب ممالک میں اس سمبل کو ھینڈ اف  فاطمہ علیہ السلام  کہتے ہیں۔ آپ سب نے علم پر اس ہاتھ کے سمبل کو اکثر دیکھا ہوگا اور کچھ تصویروں میں یہاں شئیر کر رہا ہوں
 


یہودی اس ہاتھ کے سمبل کو الٹا استعمال کرتے ہیں یعنی انگلیاں نیچے زمین کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں اور مسلمان اس سمبل کے ہاتھ کو سیدھا رکھتے ہیں یعنی انگلیاں آسمان کی طرف اشارہ کرتی نظر آتی ہیں،ان اشاروں میں کئی راز پوشیدہ ہیں جو انشاء اللہ اپنے " کبالا" کے موضوع پر اسے تفصیل سے بتاؤں گا
یہی وہ مقدس ہاتھ تھا جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو 4 نقطے کی شکل میں ایک چابی دی جس سے حضرت آدم علیہ السلام نے تمام علوم سیکھے اور خدا کے 99 اسمِ مبارک دنیا میں ہر شے میں دیکھے اور اپنے رب کو جانا اور اُن کی عبادت  کرنے لگے اور اس راز کو اپنے بیٹے حضرت شیث علیہ السلام کو بتایا اور اس طرح یہ راز مختلف انبیوں علیہ السلام  میں منتقل ہوتا رہااور ہر انبیاء علیہ السلام نے اپنے طریقے سے اپنی قوم کو راہِ حق کی طرف لیا، اب میں کچھ اور واقیعات انبیاؤں علیہ السلام کے علم رمل کے ساتھ جوڑے شئیر کر رہا ہوں

                                            : حضرت ادریسؑ کا علم رمل
ایک روایت  کہ مطابق علم رمل خواب کے ذریعے حضرت ادریس علیہ السلام پر وہی ہوا، حضرت ادریس علیہ السلام نے خواب میں حضرت جبرائیل علیہ  السلام کو دیکھا جو ریت پر رمل کی اشکال بنا رہے تھے، حضرت ادریس علیہ السلام نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ ریت پر یہ کیا بنا رہے ہیں، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رمل کی 16 اشکال کے راز سے ادریس  علیہ السلام کو آگاہ کیا




ایک دوسری روایت کہ مطابق ادریس علیہ السلام نے اللہ پاک سے دعا مانگی کہ مجھے کچھ ایسا وسیلہ آتا ہو جس سے میں اپنی پوری زندگی بہتر طریقے سے گزار سکوں، ایک دن حضرت ادریس علیہ السلام  تنہا ریت پر اداس بیٹھے ریت پر لکریں کھینچ  رہے تھے کہ ایک اجنبی شخص نے  ادریس علیہ السلام  سے پوچھا کہ یہ آپ ریت پر  کیا  بنا رہے ہو؟ ادریس علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں ایسے ہی اپنے آپ کو بہلا رہا ہوں بور ہورہا تھا، اجنبی شخص نے کہا آپ شاید جانتے نہیں آپ ریت پر بہت خاص کام کر رہے ہیں یہ کام آپ کی قسمت بدل دے گا، ادریس علیہ السلام نے اُس شخص کی بات کو مذاق سمجھ کر نظر انداز کیا، اُس اجنبی  شخص نے ریت پر ایک اور شکل بنائی جو ادریس علیہ السلام کی ریت پر بنی شکل سے ملتی جلتی تھی اسی طرح ادریس علیہ السلام نے اُس اجنبی شخص کی بنی شکل سے ملتی جلتی ایک اورشکل بنائی اس طرح بناتے بناتےرمل کی ٹوٹل 16 اشکال بن گئیں، تب اُس اجنبی شخص نے ان رمل کی 16 اشکال کی معنی بتائی اور اُس نے زایچہ بنانا سکھایا اور اس طرح حضرت ادریس علیہ السلام رمل کے چھپے راز سے واقف ہوگئے، حضرت ادریس علیہ السلام سے اُس اجنبی شخص سے پوچھا کہ آپ کون ہوکیسے اس علم کو سیکھا اور مجھے کیوں سکھایا؟ تب وہ اجنبی شخص اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوا اور کہنے لگا میں جبرئیل علیہ السلام ہوں اللہ پاک نے یہ علم آپ پر وحی کیا ہے پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام گم ہوگئے، ادریس علیہ السلام نے اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ کے مجھے وہ علم عطا کیا گیا ہے جو کسی کو معلوم نہیں،  ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث مبارک ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ علم رمل  ایک نبی پر وحی ہوا تھا اور وہ نبی  حضرت ادریس علیہ السلام تھے، اس حدیث کی تصویر میں یہاں شئیر کر رہا ہوں تاکہ آپ کے علم میں اضافہ ہو


اس طرح حضرت علی علیہ السلام نے بھی حضرت ادریس علیہ السلام کے رمل کے متعلق فرمایا ہےکہ

یعنی تم نے دیکھا کس طرح اللہ پاک نے اپنے فضل سے حضرت ادریس علیہ السلام  پر علم کا فیض پہنچایا اور اپنے فضل سے علم النقاط (رمل) کو الحام کیا اور وحی بھیج کر اُن کی  سب مشکلات  کو حل کیا۔"
ادریس علیہ السلام نے وفات سے پہلے اس علم پر کتاب لکھی جسے یہودی لوگ " لوسٹ بُک آف انوچ" کے نام سے  پکارتے ہیں یہ کتاب مکمل تو نہ مل سکی مگر کچھ حصہ اس کتاب کا ملا ہے جس میں علم رمل کے ساتھ اور بھی کئی روحانی علوم کے راض اس کتاب میں ہیں، اس طرح کئی لوگوں نے اس کتاب سے یہ علم سیکھا







                                                : حضرت نوحؑ کا علم رمل

حضرت نوح علیہ السلام  کی قوم بت پرستی اور کئی شرک کے کاموں میں مطلع ہوگئی، شرک اور گناہ دنیا میں اتنا بڑھ اور پھیل گیا کہ اللہ پاک سخت ناراض ہوئے، اُس دور میں صرف ایک حضرت نوح علیہ السلام  ہی تھے جو اللہ پاک کی عبادت کرتے تھے، حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو  دینِ حق کی طرف لانے اور سہی راہ  دکھانے کی بہت کوشش کی مگر وہ نہ مانے خود الٹا مذاق اڑانے لگے، جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ پاک کے حکم سے رمل کی ایک شکل حضرت نوح علیہ السلام کو دکھائی جس طرح پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو  ریت پر 4 نقطے ڈال کر دکھائی تھی مگر جو حضرت نوح علیہ السلام کو شکل دکھائی وہ الگ  تھی جو کچھ اس طرح تھی


اور اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا، جب حضرت نوح علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام کو ریگستان میں جہاں ہر طرف ریت ہی ریت تھی اور دو ر دور تک  پانی کا نام ونشان تک نہیں تھا وہاں کشتی بناتے دیکھا تو ہسنے اور مذاق اڑانے لگے، اور جب حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا ڈالی تو اللہ پاک نے حضرت نوح علیہ السلام کو اُن کی فیملی کے ساتھ کشتی میں جانے کا حکم دیا ، اور حضرت نوح علیہ السلام اپنی فیملی کے ساتھ کشتی میں آگئے اور پھر خدا کا عذاب نازل ہوا نہ تھمنے والی بارش اور سیلاب کی صورت میں جس سے دنیا میں ہر جاندار ڈوب کر فنا ہوگیا صرف وہ  ہی زندہ رہے جو حضرت نوح علیہ السلام  کی کشتی میں تھے:


یہ عذاب کئی عرصے تک رہا اور دنیا میں ہر جاندار ڈوب کر مرگیا اور آخر کار عذاب ختم ہونے لگا اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی  ایک پہاڑ پر آکر رُک گئی اور یہ سین اُسی رمل کی شکل کی طرح جیسے دکھائی دینے لگا



اور ایک دوسری روایت کے مطابق جب حضرت نوح علیہ السلام  کے بیٹے اور اُنکی اولادیں دنیا میں ہر جگہ پھیل گئے اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کو اُن کی خیر خبر نہ ملی تو حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ پاک  سےدُعا مانگی کہ اُنکو ایسا علم آتا  ہو جس سے وہ اپنی اولاد کے حالات سے واقف ہو سکیں اور اس طرح حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ پاک کے حکم سے علم رمل حضرت نوح علیہ السلام  کو تعلیم فرمایا اور آپ علیہ السلام اس کی مدد سے اپنی اولاد کے حالات سے واقف رہتے تھے

                                            :  حضرت ابراہیمؑ کا علم رمل

جب اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو  کعبہ شریف بنانے کا حکم فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو معلوم نہ تھا کہ اس کی جگہ کونسی ہے یا کونسی جگہ پر بنایا جائے اور کیسی صورت کا ہونا چاہیے، آپ علیہ السلام اسی سوچ میں بیٹھے تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اللہ پاک کے حکم سے ظاہر ہوئے اور انہوں نے اپنے ہاتھ کی انگلی آسمان کی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب تھا خدا ایک ہے پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام  نے اُسی انگلی کو زمین کی طرف اشارہ کر کے زمین پر انگلی گاڑہی جس سے نقطہ بن گیا
اور پھر یہی نقطہ پھیل کر 4 نقطے بن گئے اسکوائر کی طرح

یہی وہ بسم اللہ شریف کی  "ب" کا نقطہ تھا جو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے زمین پر بنایا اور جس سے بسم اللہ الرحمن  الرحیم کے 4 نقطے اسکوائر کی صورت میں  زمین  پر بن گئے اور یہی وہ 4 نقطے  تھے جو پہلے حضرت آدم علیہ السلام پر  نازل ہوئے تھے، حضرت ابراہیم علیہ السلام  نے 4 نقطوں پر  کعبہ شریف کی بنیا د ڈالی اور 4 دیواریں بنائیں اور اسکوائر کی صورت میں کعبہ شریف بنایا

                                                                                        حضرت موسٰیؑ کا علم رمل

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر علم رمل وہی ہوا تھا جیوش لوگ اس علم کو " کبالا" کہتے ہیں، کبالا ایک ہبریو یعنی عبرانی الفاظ ہے جس کا مطلب ہے  " دی رسیوڈ وذڈم" جیوش لوگوں  کے مطابق خدا نے سب سے پہلے کبالا کا علم فرشتوں کو سکھایا تھا دنیا بنانے سے پہلے اور حضرت آدم علیہ السلام کو سب سے پہلے حضرت رازضئیل علیہ السلام کے ذریعے سکھایا گیا جب ان کو جنت سے نکالا گیا تھا، تاکہ  حضرت آدم علیہ السلام اس علم کو سیکھ کر قدرت کا مشاہدہ کریں اور واپسی اُسی مقام جنت پر جاسکیں، حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ علم منتقل ہوتا رہا اور پھر اچانک یہ علم دنیا سے گم ہوگیا جیسے آجکل کے سائنٹیفک دور میں کافی روحانی علم گم ہوگئے ہیں، اس طرح اُس دور میں لوگوں میں شرک پھیلنے لگا اور جہالت اور بت پرستی  پھر بڑھنے لگی، اس طرح  یہ علم پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہوا انہوں نے اس علم کو کافی پھیلایا اُن کے بعد پھر یہ علم جیوش لوگوں میں گم ہوگیا جب وہ مصر یعنی اجپٹ میں غلامی کی زندگی گزارتے تھے، اور آخر کار یہ پھر  مقدس علم حضرت موسی علیہ السلام  پر نازل ہوا جب آپ علیہ السلام پہاڑ پر خدا سے ملے، جب پہلی دفعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پہاڑ پر گئے تھے تو خدا نے اُن کو علم ظاہری تعلیم فرمایا  جسے " ٹین کمانڈمینٹس" یا   دس احکام  کہتے ہیں یہ علم اُن کی قوم کے عام لوگوں کے لیے تھا،  جب حضرت موسیٰ علیہ السلام دوسری بار پھر پہاڑ پر خدا سے ملے تو اُن کو خدا نے علم باطنی کی تعلیم دی  جسے کبالا  کہا جاتا ہے، حضرت موسیٰ  علیہ السلام نے یہ علم اپنے تک ہی رکھا اور اپنا بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو تعلیم فرمایا اور اُن کو  کہ یہ علم صرف اپنی فیملی تک ہی محدود رکھا اس طرح یہ علم بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں منتقل ہوتا رہا ، اب میں اس علم کے متعلق کچھ  مختصر باتیں آپ سے شئیر کر تا ہوں،  کبالا علم میں جو چابی ہے جس سے یہ علم  آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے وہ ہے "ٹری آف لائف" یعنی شجر ِ حیات اُسکی تصویر اس طرح ہوتی ہے:


یہ 10 احکام  باطنی یا وہ 10 علمِ رمل  کے نقطے  ہیں جسے خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمائے تھے،  جسے جیوش لوگ ٹری آف لائف کہتے ہیں اور اسی میں سب راز پوشیدہ ہیں اور اب میں آپکو کچھ اور تفصیل بتاؤں گا اسی ٹری کے نقشے کی، یہ نقشہ پہلے اجپٹین  پیرامڈ کی طرح تھا اس طرح


اور اسی 10 نقطوں کو ٹری آف لائف کی سی صورت دی گئی اس طرح

علم رمل یا کبالا میں 1 نقطہ کو طاق اور 2 نقطوں کو جفت کہا جاتا ہے، 1 نقطہ نر سے منسوب ہوتا ہے اور 2 نقطے مادہ سے منسوب ہوتے ہیں کیونکہ  مادہ ماں بنتی ہے  اور اسی کیلکولیشن سے رمل کی اشکال بنتی  ہیں اس تصویر سے  آپ علم رمل کی کیلکولیش سمجھ جاؤ گے


کبالا کے ٹری آف لائف  میں رمل کی 4 اشکال بنتی ہیں انہیں 4 اشکال سے باقی 12 اشکال رمل کی بنی، اس تصویر میں ان 4 اشکال کو ظاہر کیا گیا ہے


ان 4 اشکال کی آپس میں کیلکولیشن سے باقی 12اشکال بنائی جاتی ہیں، آپ نے دیکھا کیسے گہرے راز پوشیدہ ہے ٹری آف لائف کے نقشے میں، ویسے اگر کوئی  اس ٹری آف لائف  کے نقشے کو دیکھے تو کوئی سمجھ نہیں پائے گا صرف  وہی سمجھ  سکتا ہے  اس پوشیدہ علم کو جیسے اس راز  کے متعلق معلوم ہو، اسی سسٹم سے یہ علم حضرت موسی علیہ السلام پر نازل ہوا تھا۔
 کچھ علمائوں کے مطابق حضرت موسی علیہ السلام پر بھی وہی 4 نقطے نازل ہوئے تھے جو حضرت آدم علیہ السلام  اور حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل ہوئے اور ان 4 نقطوں کو 4عالم ورلڈز سے منسوب کیا گیا


امیج میں جو سب سے بلیک سرکل ہے اسے کبالا میں دنیا میں اسیاح کہا جاتا ہے اور صوفیزم میں اسے عالم ِ ناسود کہتے  ہیں اُس سے اوپر والا سرکل ورلڈ آف یتزیراح یا عالم ملکوت کہتے ہیں، تیسرے سرکل کو  ورلڈ آف بریاح اور عالم جبروت کہتے ہیں اسی طرح چوتھے  سرکل  کو ورلڈ آف اتزیلوت اور  عالم لاحوت کہتے ہیں اور یہ چاروں  ورلڈ یاعالم 4 الیمنٹس سے کنیکٹڈ ہے  یہ تصوف، سوفیزم، موراکبہ، لطیف یا چکرا ہیلنگ، ریکی وغیرہ میں بھی استعمال ہوتے ہیں، علم رمل صرف قسمت کے حالات  دیکھنے تک ہی  محدود نہیں یہ بہت گہرا علم ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور اس کا علم میں سے کئی علوم نکلتے ہیں

                                               : حضرت ارمیاؑ کا علم رمل


حضرت ارمیاء علیہ السلام کی قوم کے لوگ علم نجوم سے ایک دوسرے کی مدد کرتے تھے اور اس کے ساتھ مشغول ہوتے تھے اور اُن کے  لیے کوئی شوغل نہیں تھا  مگر وہ علم نجوم میں نظر رکھتے تھے، اُن کے پوجاری بہت ہی مغرور  تھے اُن کو  اپنے علم پر بڑا ناز تھا اُن کے مطابق علم نجوم سے افضل دوسرا کوئی علم ہو ہی نہیں سکتا  اس طرح وہ خدا کو بھول کر ستارہ پرستی کرنے لگ گئے اور 7 ستاروں کے بت بنا کر اُن کی پوجا کرنے لگ گئے۔
بس اللہ پاک نے ارمیاء علیہ السلام  کی طرف وحی بھیجی اور حضرت ارمیاء علیہ السلام  نے اپنی قوم سے فرمایا:
" کون افضل ہے جو آسمان، ستارے،  چلنے والے فلک، سورج  اور چاند کی طرف دیکھے وہ  متحرک ہے اور اس میں حرکت ہے اور وہ اس کے متعلق بغیر  اصل کلام  کے ساتھ بات کرتا ہے کہ کچھ دفعہ سہی ہوتا ہے  اور کئی دفعہ خطا ہوجاتی ہے۔
یا پھر  وہ جو زمین کی طرف دیکھتا ہے اور یہ ساکن غیر متحرک ہے  جس میں حرکت نہیں ہے، مٹی میں لکیریں کھینچتا ہے اور تمام اُن چیزوں کے بارے میں خبر دیتا ہے جو اُ سکے اول سے آخر تک اس سال میں ہے اور جو کچھ اس کی بارشوں، نبات، اجناس اُس کے بہاؤ ، اس کےسستے اور مہنگے ہونے سے ہے اور جو تمہارے دشمن تمہارے شہروں میں چلتے ہیں تمہاری فتح اور شکست کے بارے میں خبر دیتے ہیں اور تمہاری زندگی، موت، امواروں کے  لمبے اور چھوٹے ہونے کے بارے میں  خبر دیتے ہیں اور یہ کہ حاملہ عورت مذکر یا مونث میں سے کیا جاننے گی۔
آپ علیہ السلام کی قوم نے کہا جو زمین میں دیکھتا ہے افضل ہے، اگر تم حاکم  اور فاضل ہو یا نبی اور تم  اس پر قادر ہو کہ جو کچھ تم بولو اُس کو اپنی دلیل کے ساتھ ظاہر کرو اور جو کچھ تم نے بولا اُس کے ساتھ عمل کرو، اگر تم نے یہ کردیا تو ہم آپ کی اتبا کریں گے اور آپ کی نبوت کے ساتھ  ایمان لائیں گے۔
بس حضرت ارمیاء علیہ السلام نے کہا اے رب تو سب سے زیادہ جاننے والاہے جو کچھ اُنہوں نے کہا مجھے وہ علم تعلیم دو جس کے ساتھ میں اُن کے علم کو باطل کردوں، بس اللہ پاک نے حضرت ارمیاء علیہ السلام پر 16 رمل کی اشکال نازل کی پھر ارمیاء علیہ السلام نے اُن اشکال کو اُن کی قوم کے طریقوں  سے مکس کیا اور ہر شکل کے نیچے لکھا جو برج، خواب، منزل، اطراف، جواہر، عناصر، نباتات، ہوائیں، حروف، اعداد اُ س کے ساتھ منسوب ہے اور مخلوقات میں ہر شے اُ سکے ساتھ منسوب ہے
بس حضرت ارمیاء علیہ السلام اُن کی طرف آئے آپ علیہ السلام نے اُن سے کہا مجھ سے پوچھو جو تم چاہتے ہو بیشک میں اللہ پاک  کے حکم سے مٹی سے اس کے ساتھ تمہاری خبر دونگا، انہوں نے ارمیاءعلیہ السلام سے پوچھا جو کچھ اس سال میں اول سے آخر تک ہوگا اور اُن تمام کے بارے میں جو زریت، ہواؤں، حرکت، سکون ،بارشوں اور نرخوں کے سستے، مہنگے ہونے کے بارے میں ہوگا۔
حضرت ارمیاء علیہ السلام نے ان کو دن با دن، ساعت با ساعت آگاہ کردیا اور جو کچھ آپ علیہ السلام نے کہا تو انہوں نے اپنے چہروں کے ساتھ اُنکی طرف میلن کیا اور انہوں نے حضرت ارمیاء علیہ السلام کی تصدیق کی اور انہیں اپنا نبی مان لیا اور جس طریقوں پر وہ پہلے تھے اُسے انہوں نے باطل کردیا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے: میرے بھائی ارمیاء علیہ السلام مٹی میں لکیریں کھینچتے تھے بس جس نے اُن کی لکیر کی معافقت کی وہ ٹھیک ہوا۔
حضرت ارمیاء علیہ السلام نےسب سے پہلے علم رمل کو  علم نجوم کے ساتھ مکس کیا اور آج جو ہم زایچہ رمل کا بناتے ہیں وہ اسی طرح ہی بناتے ہیں جس طرح حضرت ارمیاء علیہ السلام بنایا کرتے تھے اور آج بھی ہر رمل کی تصویر کے منصوبات وہی استعمال ہوتے ہیں جو حضرت ارمیاء علیہ السلام نے ایجاد کیے تھے جس کی ایک تصویر میں یہاں آپ سے شئیر کر رہا ہوں



                                                                                        :   حضرت دانیالؑ کا علم رمل

حضرت دانیال علیہ السلام  پہاڑوں کے دامن میں چھپ کر تنہائی  میں اللہ پاک  کی  عبادت میں مصروف رہتے تھے، ایک دن حضرت جبرائیل علیہ السلام علم رمل کو آپ کے پاس لائے اور فرمایا، اللہ پاک کا حکم ہے کہ گمراہ لوگوں کو  حق کی طرف دعوت دیں اور علم رمل کی مدد سے لوگوں کے دلوں کو حق کی طرف پھیریں اس لیے کہ آپ کے پاس ظاہری طور پر کوئی وسائل نہیں ہیں، چناچہ حضرت  دانیال علیہ السلام  پہاڑ سے اتر کر نیچےآئے تھوڑی ریت اپنے ساتھ لیے مصر  کے بازار میں ایک کونے میں آکر بیٹھ گئے، ہر شخص نے آکر پوچھا کہ  یہ ریت کیسی ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ تم مجھ سے سوال کرو میں اس کا جواب دونگا، چناچہ بہت لوگوں نے مختلف سوالات کیے کسی نے کہا کہ ہم کس کام کو جاتے ہیں، کسی نے کہا کہ آج ہم گھر سے کیا کھانا کھا کر چلیں ہیں اور ہمارے گھرمیں کس قدر دولت  ہے اور کتنے آدمی ہیں یا  ہمارے گھر میں خزانہ ہے یا نہیں،  اگر ہے تو  کس قدر ہے،  اور کچھ نے پوچھا کہ ہمارے دل میں کیا ہے، آپ علیہ السلام نے اس علم شریف سے ایسے صحیح جوابات دئیے کہ اُس میں فرق نہ تھا  ہزاروں اہلِ مصر ایمان لے آئے



کچھ تاریک میں علماؤں نے اس طرح لکھا ہے کہ جب حضرت دانیال علیہ السلام اپنی قوم کی مخالفت کی وجہ سے شہر سے باہر گئے تب یہ علم بطورِ معجزا عطا ہوا تھا، آپ علیہ السلام نے اس علم کے ذریعے لوگوں کے دلوں کا حال بیان کیا اس سے قوم میں حضرت دانیال ؑ کی عزت اور اعتماد پیدا ہوگیا، اڑتے اڑتے یہ خبر اُس وقت کے بادشاہ کو پہنچی تو اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام کو بلوا بھیجا اور جس سے بادشاہ بہت متاثر ہوا اُس نے حضرت دانیال علیہ السلام سے کہا کہ آپ میرے بیٹے کو علم رمل کی تعلیم دیں۔حضرت دانیال ؑ  نے شہزادے کو بڑے دل جمی کے ساتھ علم رمل کی تعلیم دینا شروع کی اور اس علم میں ماہر کردیا، جب شہزادہ علم رمل میں کامل ہوگیا تو بادشاہ بہت خوش ہوا، بادشاہ نے اکیلے میں حضرت دانیا ل علیہ السلام کو بلایا وہاں پر شہزادہ بھی موجود تھا اور ان 3 افراد کے علاوہ وہاں اور کوئ موجود نہ تھا، باتوں باتوں میں حضرت دانیال علیہ السلام نے شہزادے سے فرمایا کہ ہمیشہ سے یہ معمول چلا رہا ہے کہ ہر ایک زمانے میں اللہ پاک نے لوگوں کی ہدایات اور رہنمائی کے لیے
ایک پیغمبر کو بھیجا ہے،تم علم رمل کے ذریعےمعلوم کرو کہ اس زمانے میں کوئی پیغمبر موجود ہے یا نہیں؟ چناچے شہزادے نے خط رمل کھینچا اور حساب لگا کر کہا کہ اس زمانے میں پیغمبر موجود ہے،حضرت دانیا ل علیہ السلام نے پھر پوچھا کہ اگر پیغمبر ہے تو اس وقت کس شہر میں ہے؟ شہزادے نے حساب لگا کر بتایا کہ اسی شہر میں ہے حضرت دانیال علیہ السلام نے پھر دریافت کیا کہ اسی شہر میں کس مقام پر ہے؟ شہزادے نے جواب دیا اسی مقام پر ہے، تب حضرت دانیال  نے پوچھا کہ اگر پیغمبر اس جگہ پر ہے تو وہ کون ہے؟ شہزادے نے پھر حساب لگا کر کہا اس جگہ پر ہم 3 شخص ہیں نا تو میں پیغمبر ہوں نہ میرا با پ پیغمبر ہے بیشک آپ پیغمبر حق ہیں، بادشاہ یہ گفتگو سن رہا تھا وہ اور شہزادہ اسی وقت حضرت دانیال علیہ السلام پر ایمان لائے اور اُ سکے  بعد باقی تمام قوم بھی گمراہی سے طیب ہوکر حضرت دانیال علیہ السلام پر ایمان لےآئی



اس کی ایک تاریخ علامہ ابن خلدوم اپنی کتاب تاریخ ِ عالم میں اس طرح بیان کیا ہے:
بابل کےبادشاہ نیبوچدنرزر یروشلیم پر حملہ کیا، اور ھیکل مقدس (ٹیمپل آٖ ف سولومن) کو ویران، برباد کرکے بنی اسرائیل کو زنجیروں سے باندھ کر بیابان نانواہ میں قید کیا، اس وقت بنی اسرائیل کے قیدیوں کی تعداد 96 ہزار تھی اور وہ بیابان میں مختلف مقامات پر قطار در قطار  آسمان تلے ریت پر بیٹھےقید و بند کی سختیاں جھیل رہے تھےاُس وقت اسرائیل کے دینی رہنما حضرت دانیال علیہ السلام تھے، جو قوم کے  اس طرح سخت حالات کی وجہ سے سخت پریشان تھے، چناچے قوم کے  مختلف  گرہو ں کے حالات سے آگاہ ہونے کے لیے اللہ پاک نے جبرئیل امین علیہ السلام کے  ذریعے  علم رمل  عطا فرمایا۔
حضرت دانیال ؑ   ریت پر  بیٹھے تھے اور دل و دماغ قوم کے حالات کو لیکر  پریشان تھے ہاتھ ریت کے زرون میں گڑھے تھے،جوہی جبرائیل علیہ السلام  نازل ہوئے  تو آپ نے ہاتھ ریت  سے الگ کر کے اُن کی طرف توجہ کی،  جبرئیل نے آپ کو خدا کاسلام دیا اور فرمایا دانیال پریشان نہ ہو اور ریت پر  اپنے ہاتھوں کے ان 8 نقطوں کو دیکھو، ان 8  نقطوں سے حضرت جبرائیل علیہ السلام  نے حضرت دانیال علیہ السلام کو رمل کی 16 اشکال  تعلیم فرمائیں اور  اشکال  کی معنی بتائیں جن کے ذریعے  دانیال علیہ السلام بنی اسرائیل کے مختلف گرہوں کے حالات سے واقف ہوئے اور پھر اسی علم کے ذریعے آپ نے بابل کے بادشاہ کو اپنا گرویدہ بنایا


                                              : حضرت لقمان کا علم رمل

حضرت لقمان کو اللہ پاک نے حکمت کا علم بخشا تھا جس کے متعلق قرآن شریف میں اللہ پاک نے فرمایا ہے " اورہم نے لقمان کو حکمت بخشی کے خدا کا شکر کرو"۔ حضرت لقمان کو اللہ پاک نے انتہا درجے کی حکمت سے نوازا تھا لیکن  انہی نبوت سے سرفراز  نہیں فرمایا تھا،  حضرت لقمان ایک افریقن یا سعودانی تھے اور چھوٹے قد، چپٹی ناک والے سیاح فام حبشی تھے اور آپ کے چہرے کا رنگ بہت سیاہ یعنی کالا تھا، آپ کو ہر قسم کی جڑی بوٹیوں  کا علم تھا اور علم حکمت میں آپ سے بڑھ کر کوئ نہیں حکمت کے ساتھ علم رمل بھی اللہ پاک نے آپکو عطا فرمایا تھا، جو آج بھی افریقن ممالک میں سیاح فام لوگ جانتے ہیں،  لقمانی رمل کو  "ایفاہ" کہا جاتا ہے


لقمانی رمل میں صرف 2 رمل کی  اشکال بنائی جاتی ہیں اور ان کی 2 اشکال سے اور سب حالات معلوم پڑ جاتے ہیں، لقمانی رمل کا طریقہ بہت عجیب اور گہر اہے جسے ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا وہی سمجھ سکتا ہے جسے اللہ پاک حضرت لقمان جیسی ذہانت دے


حضرت لقمان علم رمل  سے مرض کو پہلے تشخیص کرتے تھے اور پھر اُس مرض کا علاج کرتے تھے،  آپ نے اپنے بیٹے کو یہ مقدس علم تعلیم فرمایا اور آپ کے بیٹے کے بعد یہ علم افریقہ میں پھیل گیا اور آج بھی یہ علم افریقہ  کے گھنے جنگلوں میں حبشی لوگ جانتے ہیں اور اس علم س کئی پوشیدہ امراض کو تشخیص کر کے جڑی بوٹیوں  یا جھاڑ پھونک  سے علاج کرتے ہیں


                                                                                         : حضرت عیسٰیؑ کا علم رمل





حضرت عیسی علیہ السلام  بھی  علم رمل جانتے تھے مقدس کتابِ انجیل یعنی بایئبل کے مطابق کچھ یہودیوں نے ایک عورت کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس عورت نے بڑا گناہ کیا ہے اس نے زناء کیا ہے  اور موسیٰ علیہ السلام کے قانون کےمطابق اس عورت کو سنگسار کرنا ہوگا اور آپ اس کے  بارے میں کیا کہتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر انگلی سے لکیریں ڈالنے لگے اور خاموش رہے جب یہودیوں نے پوچھا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہودیوں سے  کہا کہ تم لوگوں میں سے جو گناہوں سے پاک ہو وہ پہلا پتھر اس عورت کو مارے، یہ کہنے کے بعد آپ علیہ السلام پھر سے زمین پر لکیروں سے اشکال بنانے لگے، یہودی یہ سن کر ایک  ایک کر کے عورت کو چھوڑ کر چلے گئے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اٹھے اور پوچھا اکیلی کھڑی عورت سے کے سب کہاں گے کسی نے کچھ بھی نہیں کہا تم کو۔ عورت نے کہا کہ نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا مجھے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے عورت کو کہا کہ میں بھی تم کو کچھ نہیں کہوں گا، جاؤ اور اب دوبارہ گناہ نہ کرنا


                                    :   حضرت محمدﷺ کا علم رمل

کافی احادیث نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں جو علم رمل کے متعلق ہیں۔
میرے علم میں جو احادیث ہیں میں وہ یہاں آپ سے شئیر کر رہا ہوں، احادیث کی کتاب میں سہی بخاری شریف اور سہی مسلم شریف کو سب سے معتبر مانا جاتا ہے  اور یہاں میں کچھ احادیث کی تصویریں سہی بخاری شریف کی آپ سے شئیر کر رہا ہوں۔




ایک اور حدیث بھی سہی بخاری شریف میں اس طرح ہے




اس طرح ایک اور حدیث بھی سہی بخاری شریف میں اس طرح لکھی ہے:

 

 

 ایک مشہور علم رمل کے متعلق ہمار ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی حدیث جو کافی رمل کی کتب میں لکھی ہوتی ہے وہ حدیث یہ ہے:

 

ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ مقدس علم اہلِ بیت میں حضرت علی علیہ السلام ، حضرت بی بی فاطمہ ؑ   اور حضرت امام جعفر صادق ؑ  کو ملا اور پھر اولیائوں، درویش، پیر، فقیروں میں یہ علم پھیل گیا اور انہی سے یہ علم ہم گناہگار بندوں  کو نصیب ہوا یہ علم اللہ پاک نے انبیائوں علیہ السلام پر نازل فرمایا اس لیے یہ ایک سچا علم ہے،  جو شخص اس کے اصول و قوائد  کے مطابق  اس پر  عمل کرے گا ثواب کے علاوہ اس کا  حساب سہی  اور سچا ثابت ہوگا اور لوگوں کی  بھلائی اور مشکل کشائی ہوگی، کیونکہ یہ علم ہر لحاظ سے سہی ہے  جس کو پروردگار نے اپنے خاص بندوں کی رہنمائی  کے لیے نازل فرمایا، اس کے اسرار و رموض بہت گہرے ہیں، پاکستان میں کچھ جاہل لوگوں کے ہاتھوں  یہ علم ٓاگیا ہے جنکو اس علم کی کوئی جانکاری نہی ہوتی بس اپنی طرف سے اناپ شناپ باتیں بول دیتے ہیں  اور جو باتیں کہتے ہیں سب جھوٹی نکلتی ہیں کچھ لوگ تو ا س علم کو  کھیل سمجھتے ہیں اور بیکار سوالات جیسے سٹے کے نمبر معلوم کرنا، پرائز بانڈ کا دکھانا،کرکٹ میں کونسی ٹیم ہارے گی یا کونسی جیتے گی کس پر سٹا لگایا جائے، اس طرح کے بکواس اور لالچ بھرے سوالات کا دیکھنا اس علم کی توہین کرنا  ہے، جو اس طرح کی لالچ دل میں ڈالے اس علم کو سیکھے گا یا حساب نکالے گا تو یہ مقدس علم اُس شخص کی زندگی میں ایسا قہر نازل  کریگا  کہ وہ شخص بھکاری بن کر روڈ پر آجائے گا یا ایسا بیمار ہوگا کہ سارا اُس کا پیسہ بیماری میں چلا جائے گا، اس لیے ہمیں اس علم میں سوچ سمجھ کر  سوالات دیکھنے چاہیے یہ کوئی مذاق یا کھیل نہیں کہ جسے جب دل میں چاہا فضول سوالات دیکھ لیے، میں نے اپنی زندگی میں ایسے کئی لوگ دیکھیں ہیں جو علم رمل سیکھنے کے بعد برباد ہوگئے اس کی وجہ لالچ اور فضول سوالات کے متعلق زایچہ بنا کر دیکھنا ہے، اس لیے پلیز آپ اس علم میں صرف اور صرف وہی سوالات دیکھے جو ضروری ہوں ،اس علم کو ہر مذہب کا شخص حاصل کر سکتا ہے جو  شخص اپنے مذہب پر  قائم نہیں رہ سکتا وہ اس علم پر کبھی  کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ہر شخص کو اپنے مذہب کے اصولوں  کی پابندی نہایت ضروری ہے تب جاکر آپ اس علم پر حاوی ہونگے اور عوام کو فائدہ پہنچا سکیں گے ورنہ نہیں۔
میں یہ علم لوگوں کو نیٹ پر سکھاتا ہوں اگر آپ بھی اس مقدعلم کو سیکھنا چاہتے ہیں تو مجھ سے رابطہ کریں، کچھ لوگوں کے مطابق یہ علم بہت  مشکل ہے سیکھنا، اُن کا یہ کہنا  اور سوچنا ایک طرح سے سہی ہے کیونکہ یہ رمل کی ساری کتابوں  میں  یہ علم مشکل  لگتا ہے مجھے بھی بُک میں مشکل  لگا پر اللہ پاک کے کرم سے میرے والد محمد عرس پیرزادہ نے مجھے ٓاسان طریقے سے  یہ علم سکھایا وہ میرے والد ہی نہیں  میرے استا د بھی ہیں  جو علم ِ رمل کےماسٹر بھی ہیں  مجھے بھی ماسٹر بنا رہے ہیں، میرے والد کو اس علم سے عشق رہا ہے اور مجھے بھی  اس علم سے عشق ہے، میں نے کبھی اس علم سے کامل ہونے کا دعوی نہیں کیا اور جو دعوی کرے وہ گمراہ ہے
میری ٓاپ سب کے لیے دعا ہے کہ اللہ پاک ٓاپ کو بھی یہ علم عطا کرے، یہ علم ایک ایسا خزانہ ہے جو نہ چوری ہوسکتا ہے نہ گم ہو سکتا ہے، خود یہ اور مضید بڑھتا رہتا ہے، یہ خزانہ دنیاوی زندگی کے ساتھ ٓاخرت کی زندگی میں بھی فائدہ دیتا ہے، انشاء اللہ میں بہت جلد علم رمل پر مضید پوسٹنگ شیئر کروں گا، اپنے اس بھائی کو دعائوں میں ضرور یاد رکھیئے گا۔


                                                                                                
                                                                                           علی
                                                                     +92 03003799165